اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق فورم کے رکن نے کہا کہ آل خلیفہ کی اپیل کورٹ نے حال میں عدالت کی طرف سے میڈیکل اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو زخمی احتجاجیوں کے علاج کی پاداش میں سنائی جانے والی قید کی سزاؤں کو برقرار رکھا ہے اور یہ مسئلہ عالمی سطح پر شدید مذمت کا سامنا کررہا ہے۔ بحرین کے انسانی حقوق فورم کے رکن باقر درويش نے منگل کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: اقوام متحدہ سے وابستہ اعلی انسانی حقوق کمیشن نے ڈاکٹروں کو دی جانے والی سزاؤں کو سیاسی ظلم قرار دیا ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ان احکام سے ثابت ہوتا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی طرف سے عدل و انصاف کے قیام کے دعوے جھوٹے ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین کے نام نہاد "محکمۂ عدل" نے کل (پیر کے روز) 9 ڈاکٹروں اور نرسوں کو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے پر دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا اور پیرامیڈیکل اور میڈیکل اسٹاف کے 32 کارکنوں کے کیسز کو فوجداری عدالت (Criminal Court) میں بھجوادیا ہے گوکہ علاج معالجے کی سہولتیں محکمہ طب کے کارکنوں کے حلف کا حصہ ہے اور اب یہ سوال بہرحال موجود ہے کہ علاج و معالجے کو کیونکہ کریمنل کیس قرار دیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: حال ہی میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے آخری اجلاس میں آل خلیفہ کی حکومت سے کہا گیا کہ "انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر کرے"، "سیاسی اسیروں کو رہا کردے"، اور "بحرین میں سیاسی احتجاج و اعتراض کی اجازت دی جائے"، چنانچہ آل خلیفہ کو ان سب مطالبات پر عمل کرنا چاہئے لیکن آل خلیفہ کے حکام عالمی قوتوں کی مدد سے سیکورٹی آپشن کو ہی ترجیح دیتے ہیں گرفتاریوں میں اضافہ ہورہا ہے اور پرامن مظاہروں کو وحشیانہ انداز سے کچلا جارہا ہے اور ان کے تمام اقداامات بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔ انھوں نے کہا: جو لوگ 100 سے زائد شہریوں کے قتل اور ہزاروں افراد کو زخمی کرنے، قید کرنے اور ٹارچر کرنے اور ہزاروں افراد کو اداروں، کمپنیوں اور کارپوریشنوں سے نکال باہر کرنے اور روزگار سے محروم کرنے میں ملوث عناصر پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے؛ مگر افسوس کا مقام ہے کہ منظم جرائم اور عوام پر جارحیت اور تجاوز کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور ان تمام مسائل میں آل خلیفہ کے حکام ملوث ہیں جن کو قانونی تحفظ حاصل ہے!!!انھوں نے کہا: آج تک مذکورہ بالا جرائم میں ملوث ایک فرد کو بھی گرفتار نہيں کیا گیا اور کسی پر مقدمہ نہيں چلایا گیا۔
.....
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: